سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 644
Sunan Ibn Majah 644
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
125: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا لَا يَجْلِسُونَ مَعَ الْحَائِضِ فِي بَيْتٍ، وَلَا يَأْكُلُونَ، وَلَا يَشْرَبُونَ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الْجِمَاعَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود حائضہ عورتوں کے ساتھ نہ تو گھر میں بیٹھتے ، نہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» ” لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے : وہ ایک گندگی ہے لہٰذا تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو “ ( سورة البقرہ : ۲۲۲ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جماع کے سوا عورتوں سے حیض کی حالت میں سب کچھ کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 644]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہا رة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 3 (2977)، (تحفة الأشراف: 308)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 181 (289)، الحیض 8 (369)، مسند احمد (3/246)، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1093) (صحیح)