📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: تیمم کے احکام و مسائل (أبواب التيمم) 🏷️ باب: باب: حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 642 Sunan Ibn Majah 642
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
124: . بَابٌ في الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ
باب: حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: " تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطْهُرُ بِهَا"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، قَالَتْ: وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: " تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ حَتَّى تَصُبَّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهَا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے ، پھر وہ طہارت حاصل کرے ( یعنی شرمگاہ دھوئے ) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت میں مبالغہ کرے ، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب اچھی طرح ملے ، یہاں تک کہ سر کے سارے بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے ، پھر اس پر پانی ڈالے ، پھر خوشبو کو ( کپڑے یا روئی کے ) ایک ٹکڑے میں بھگو کر اس سے ( شرمگاہ کی ) صفائی کرے “ ، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا : میں اس سے کیسے صفائی کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” سبحان اللہ ! اس سے صفائی کرو “ ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے چپکے سے کہا : اس کو خون کے نشان ( یعنی شرمگاہ ) پر پھیرو ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی عورت پانی لے اور طہارت کرے اور اچھی طرح کرے یا پاکی میں مبالغہ کرے ، پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب ملے یہاں تک کہ سر کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے ، پھر اپنے پورے جسم پہ پانی بہائے “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا : انصارکی عورتیں کتنی اچھی ہیں ، انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے شرم و حیاء نہیں روکتی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 642]
💡 وضاحت:
۱؎: حق بات کہنا اور دین کی بات پوچھنا یہ شرم کے خلاف نہیں ہے، اور جو کوئی اس کو شرم کے خلاف سمجھے وہ خود بے وقوف ہے، شرم برے کام میں کرنا چاہئے، معصیت سے پاک عورتیں ناپاک باتوں سے پرہیز کرتی ہیں، آج کل کی عورتیں گناہ میں شرم نہیں کرتیں، اور دین کی بات دریافت کرنے میں شرم کرتی ہیں، ان کی شرم پر خاک پڑے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث الغسل من الجنابة: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17848)، وحدیث الغسل من المحیض أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 31 (233)، سنن ابی داود/الطہارة 122 (314، 315)، (تحفة الأشراف: 17847)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 14 (314 تعلیقاً)، سنن النسائی/الطہارة 159 (252)، مسند احمد (6/147)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (800) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 331، 333)
سنن ابن ماجه • حدیث #642
640 641 642 643 644

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#641 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ...
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ن...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ