سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 624
Sunan Ibn Majah 624
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
115: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا
باب: مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا : اللہ کے رسول ! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے جس سے میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں ، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں ہے ، اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھو ، پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے الگ وضو کرو ، ( اور نماز پڑھو ) خواہ خون چٹائی ہی پر کیوں نہ ٹپکے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 624]
💡 وضاحت:
۱؎: ہر نماز کے لئے وضو کرنا زیادہ صحیح طریقہ ہے، اور اگر مستحاضہ دوسری نمازوں کو ملا کر پڑھنا چاہے، تو اس طرح کرے کہ ایک نماز میں دیر کرے، اس کو اخیر وقت پر ادا کرے، اور دوسری میں جلدی کرے، اس کو اول وقت پر ادا کرے، اور دونوں نمازوں کے لئے ایک ہی وضو کر لے، اور کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ ہر نماز کے لئے غسل کرنا واجب ہے یا ہر دو نماز کے لئے یا ہر روز ایک بار بلکہ غسل اسی وقت کافی ہے جب عادت کے موافق حیض سے پاک ہونے کا وقت آئے یا خون کی رنگت کے لحاظ سے معلوم ہو جائے کہ اب حیض کا خون جا چکا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح إلا قوله لا وإن قطر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (298) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 113 (298)، (تحفة الأشراف: 17372)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضو ء 64 (228)، سنن النسائی/الطہارة 138 (219)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (104)، مسند احمد (6/42، 204، 262)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801) (صحیح) (آخری ٹکڑا: وإن قطر الدم على الحصير کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے)