سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 623
Sunan Ibn Majah 623
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
115: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا
باب: مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: " وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے ، پاک نہیں رہتی ہوں ، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ جن دنوں میں تمہیں حیض آتا ہے اتنے دن نماز چھوڑ دو “ ، ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں کہا : ” ہر مہینہ سے بقدر ایام حیض نماز چھوڑ دو ، پھر غسل کرو ، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز ادا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 623]
💡 وضاحت:
۱؎: اگرچہ خون آیا کرے، کیونکہ وہ حیض کا خون نہیں ہے، اس حدیث سے اور حدث والوں کا بھی حکم نکلا جیسے کسی کو پیشاب کی بیماری ہو جائے یا ریاح (ہوا خارج ہونے) کی، وہ بھی نماز ترک نہ کرے بلکہ ہر نماز کے لئے وضو کرے، اور جب تک وقت باقی رہے ایک ہی وضو سے فرض اور نفل ادا کرے، گو حدث ہوتا رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ وانظر ضعيف سنن أبي داود (276) سليمان بن يسار سمعه من رجل مجھول (د 275) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 108 (274، 275)، سنن النسائی/الطہارة 134 (209)، الحیض 3 (354، 355)، (تحفة الأشراف: 18158)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 29 (105)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (807) (صحیح)