سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 553
Sunan Ibn Majah 553
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
86: بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ
باب: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: " جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا، وَلَوْ مَضَى السَّائِلُ عَلَى مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا".
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن تک کی اجازت دی ہے اور اگر پوچھنے والا اپنے سوال کو جاری رکھتا تو شاید اسے آپ پانچ دن کر دیتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 553]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر مسافر نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہیں، تو وہ ان پر تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے، واضح رہے کہ جس وقت پہنا ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ جس نماز کے وقت سے موزے پر مسح شروع کیا ہے اس کا اعتبار ہو گا، نیز نہانے کی حاجت اگر ہو جائے، تو اتارنے پڑیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (157) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 60 (157)، سنن الترمذی/الطہارة 71 (95)، (تحفة الأشراف: 3528)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214، 215) (صحیح)