سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 536
Sunan Ibn Majah 536
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
81: بَابُ : الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: منی لگے ہوئے کپڑے کا حکم۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الْمَنِيُّ أَنَغْسِلُهُ، أَوْ نَغْسِلُ الثَّوْبَ كُلَّهُ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ ثَوْبَهُ فَيَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فِي ثَوْبِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، وَأَنَا أَرَى أَثَرَ الْغَسْلِ فِيهِ".
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا : اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو ؟ سلیمان نے کہا : ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے ، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے ، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 536]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 64 (227)، 65 (229)، صحیح مسلم/الطہارة 32 (289) سنن ابی داود/الطہارة 136 (373)، سنن النسائی/الطہارة 187 (296)، سنن الترمذی/الطہارة 187 (117)، (تحفة الأشراف: 16135)، مسند احمد (6/48، 142، 162، 235) (صحیح)