سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 534
Sunan Ibn Majah 534
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
80: بَابُ : مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ
باب: جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: " أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ لَا يَنْجُسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے ، تو وہ چپکے سے نکل لیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غائب پایا ، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” ابوہریرہ ! تم کہاں تھے ؟ “ ، کہا : اللہ کے رسول ! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا ، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ناپاک نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 534]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنبی ہونے سے مومن کا جسم اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھولے تو ہاتھ ناپاک ہو جائے، بلکہ اس کی ناپاکی حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 23 (283)، صحیح مسلم/الحیض 29 (371)، سنن ابی داود/الطہارة 92 (231)، سنن الترمذی/الطہارة 89 (121)، سنن النسائی/الطہارة 172 (270)، (تحفة الأشراف: 14648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/235، 282، 471) (صحیح)