سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 507
Sunan Ibn Majah 507
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
70: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ
باب: مذی سے وضو کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: " إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ"، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے ۔ وہ ( گھر سے ) باہر تشریف لائے ۔ ( بات چیت کے دوران ان میں ابی نے ) فرمایا : مجھے مذی آ گئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے ( اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی ) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا یہ ( وضو کر لینا ) کافی ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( خود ) سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 507]
💡 وضاحت:
۱ ؎: مذی اور اسی طرح پیشاب اور پاخانہ کے راستہ سے جو چیز بھی نکلے اس سے وضو ٹوٹنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أبو حبيب: مجهول (تقريب: 8038) وأصله في الصحيحين من حديث علي والمقداد رضي اللّٰه عنهما (البخاري: 132 ومسلم: 303) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 51، ومصباح الزجاجة: 210)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/320، 5/117) (ضعیف الإسناد) (سند ابوحبیب کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے)