سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 506
Sunan Ibn Majah 506
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
70: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ
باب: مذی سے وضو کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً فَأُكْثِرُ مِنْهُ الِاغْتِسَالَ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ قَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ كَفٌّ مِنْ مَاءٍ تَنْضَحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا ، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” اس سے وضو کافی ہے “ ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک چلو پانی لو ، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہاں پہ چھڑک دو ، بس یہ تمہارے لیے کافی ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 506]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن یہ تبھی ہے جب یقین ہو کہ یہ مذی ہے، اگر یقین ہو کہ منی ہے، تو غسل کرنا ہی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 83 (210)، سنن الترمذی/الطہارة 84 (115)، (تحفة الأشراف: 4664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/485)، سنن الدارمی/الطہارة 49 (750) (حسن)