سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 492
Sunan Ibn Majah 492
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
66: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ، " أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ" صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِأَطْعِمَةٍ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ".
سوید بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے ، جب مقام صہباء ۱؎ میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا ، پیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا ، اور کلی کی ، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 492]
💡 وضاحت:
۱؎: «صہباء» : خیبر سے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 51 (209)، 54 (215)، الجہاد، 123 (2981)، المغازي 3 (4175)، الأطعمة 8 (5384)، 9 (5390)، سنن النسائی/الطہارة 124 (186)، (تحفة الأشراف: 4813)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 5 (20) مسند احمد (3/ 462، 488) (صحیح)