سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 488
Sunan Ibn Majah 488
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
66: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا، ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا ، پھر نیچے بچھے ہوئے چمڑے میں اپنا ہاتھ پونچھا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، اور نماز پڑھائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 488]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (189) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 75 (189)، (تحفة الأشراف: 6110، ومصباح الزجاجة: 201)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 18 (5404)، صحیح مسلم/الحیض 24 (354)، سنن النسائی/الطہارة 123 (182)، موطا امام مالک/الطہارة 5 (19)، مسند احمد (1/326) (صحیح) (سند میں سماک بن حرب ہیں، جن کی عکرمہ سے راویت میں اضطراب ہے، لیکن دوسرے طرق کی وجہ سے یہ صحیح ہے، اس لئے کہ مسند احمد میں سفیان نے سماک کی متابعت کی ہے، ایسے ہی ایوب نے بھی متابعت کی ہے (مسند احمد 1/273) نیز زہیر نے بھی سماک کی متابعت کی ہے، (1/267) نیز حدیث کے دوسرے طرق ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 182- 184)۔