سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 450
Sunan Ibn Majah 450
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
55: بَابُ : غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ
باب: ایڑیوں کے دھونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، ان کی ایڑیاں سوکھی ظاہر ہو رہی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایڑیوں کو دھلنے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ، وضو میں اچھی طرح ہر عضو تک پانی پہنچا کر وضو کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 450]
💡 وضاحت:
۱؎: «عراقیب» : «عرقوب» کی جمع ہے، اور وہ موٹی رگ ہے جو ایڑی کے اور پاؤں کے پیچھے ہے، یعنی ایڑیاں اگر وضو میں خشک رہ جائیں گی تو جہنم میں جلائی جائیں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 9 (241)، سنن ابی داود/الطہارة 46 (97)، سنن النسائی/الطہارة 89 (111)، (تحفة الأشراف: 8936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 3 (60)، 30 (96)، الوضوء 28 (163)، مسند احمد (2/193، 201، 205، 211، 226) (صحیح)