سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 429
Sunan Ibn Majah 429
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
50: بَابُ : مَا جَاءَ فِي تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ
باب: داڑھی میں خلال کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 429]
💡 وضاحت:
۱؎: داڑھی کے بالوں کا خلال مستحبات وضو میں سے ہے، جن کی داڑھی گھنی ہو انہیں اس کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے، اسی طرح انگلیوں کے خلال کا بھی خیال رکھنا چاہئے، اگر یہ احساس ہو کہ پانی نہیں پہنچا ہو گا تو ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 23 (29)، (تحفة الأشراف: 10346) (صحیح)