سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 427
Sunan Ibn Majah 427
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
49: بَابُ : مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ"؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ناپسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا ۱؎ ، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا ۲؎ ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 427]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سخت سردی اور بیماری کے باوجود (جس میں پانی کا استعمال سخت ناپسندیدہ کام ہوتا ہے)، مکمل وضو کرنا۔ ۲؎: یہ مسجد سے گھر دور ہونے کی صورت میں حاصل ہو گا، اسی طرح اس سے مراد بار بار مسجد جانا بھی ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4046، ومصباح الزجاجة: 176)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 39 (51)، مسند احمد (3/3، 16، 95)، دي الطہارة 30 (725) (حسن صحیح)