سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4269
Sunan Ibn Majah 4269
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
32: بَابُ : ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى
باب: قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ , يُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ , وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ , فَذَلِكَ قَوْلُهُ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ آیت : «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے ، اس ( مردے ) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے ، اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، یہی مراد ہے اس آیت : «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ” اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی ” ( سورة ابراهيم : 72 ) سے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4269]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 86 (1369)، التفسیرسورة ابراہیم 2 (4699)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، سنن ابی داود/السنة 27 (4750 سنن الترمذی/تفسیرالقران سورة ٕابراہیم 15 (3120)، سنن النسائی/الجنائز 114 (2059)، (تحفة الأشراف: 1762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/282، 291) (صحیح)