سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4268
Sunan Ibn Majah 4268
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
32: بَابُ : ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى
باب: قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا شَبَابَةُ , عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ , فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ , وَلَا مَشْعُوفٍ , ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ فِي الْإِسْلَامِ , فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَصَدَّقْنَاهُ , فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ اللَّهَ؟ فَيَقُولُ: مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَ , فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ , فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا , فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ , ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ , فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا , فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ , وَيُقَالُ لَهُ عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ , وَعَلَيْهِ مُتَّ , وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا , مَشْعُوفًا , فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ , فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي , فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُهُ , فَيُفْرَجُ لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ , فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا , فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْكَ , ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ , فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا , فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ , عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ , وَعَلَيْهِ مُتَّ , وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مرنے والا قبر میں جاتا ہے ، نیک آدمی تو اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے ، نہ کوئی خوف ہوتا ہے نہ دل پریشان ہوتا ہے ، اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں اسلام پر تھا ، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں ؟ وہ کہتا ہے : یہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، یہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی ، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھلا کون دیکھ سکتا ہے ؟ پھر اس کے لیے ایک کھڑکی جہنم کی جانب کھولی جاتی ہے ، وہ اس کی شدت اشتعال کو دیکھتا ہے ، اس سے کہا جاتا ہے : دیکھ ، اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اس سے بچا لیا ہے ، پھر ایک دوسرا دریچہ جنت کی طرف کھولا جاتا ہے ، وہ اس کی تازگی اور لطافت کو دیکھتا ہے ، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے ، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تو یقین پر تھا ، یقین پر ہی مرا ، اور یقین پر ہی اٹھے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔ اور برا آدمی اپنی قبر میں پریشان اور گھبرایا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے ، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں ؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہا ، اس کے لیے جنت کا ایک دریچہ کھولا جاتا ہے ، وہ اس کی لطافت و تازگی کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھ ! اس سے اللہ تعالیٰ نے تجھے محروم کیا ، پھر جہنم کا دریچہ کھولا جاتا ہے ، وہ اس کی شدت اور ہولناکی کو دیکھتا ہے ، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے ، تو شک پر تھا ، شک پر ہی مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4268]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13387، ومصباح الزجاجة: 1527)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/140، 364، 6/139) (صحیح)