سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4261
Sunan Ibn Majah 4261
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
31: بَابُ : ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالاِسْتِعْدَادِ لَهُ
باب: موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , حَدَّثَنَا سَيَّارٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ , فَقَالَ: " كَيْفَ تَجِدُكَ" , قَالَ: أَرْجُو اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَخَافُ ذُنُوبِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ , إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو, وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو “ ؟ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں ، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں ، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے ، اور جس چیز سے ڈرتا ہے ، اس سے محفوظ رکھے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4261]
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجنائز 11 (983)، (تحفة الأشراف: 262) (حسن) (سند میں سیار بن حاتم ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1051)