سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4259
Sunan Ibn Majah 4259
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
31: بَابُ : ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالاِسْتِعْدَادِ لَهُ
باب: موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" , قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: " أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا , وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا , أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا ، اس نے آپ کو سلام کیا ، پھر کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے “ ، اس نے کہا : ان میں سب سے عقلمند کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے ، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے ، وہی عقلمند ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4259]
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7333، ومصباح الزجاجة: 1524) (حسن) (سند میں فروہ بن قیس اور نافع بن عبد اللہ مجہول ہیں، لیکن حدیث دوسرے شواہد سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1384)