سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4244
Sunan Ibn Majah 4244
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
29: بَابُ : ذِكْرِ الذُّنُوبِ
باب: گناہوں کو یاد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل , وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ , فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ , صُقِلَ قَلْبُهُ , فَإِنْ زَادَ زَادَتْ , فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کرے ، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے ، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے ، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے : «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ” ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں “ ( سورة المطففين : 14 ) “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4244]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف / ت 3334، نك 11658
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن 74 (3334)، (تحفة الأشراف: 12862)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/297) (حسن)