سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4242
Sunan Ibn Majah 4242
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
29: بَابُ : ذِكْرِ الذُّنُوبِ
باب: گناہوں کو یاد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَأَبِي , عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنُؤَاخَذُ بِمَا كُنَّا نَعْمَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ , لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا ، جو ہم نے ( زمانہ ) جاہلیت میں کئے تھے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے ( دل سے اسلام لے آیا ) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا ، اور جس نے اسلام لا کر بھی برے کام کئے ، ( کفر پر قائم رہا ہے ) تو اس سے اول و آخر دونوں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4242]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/استتابة المرتدین 1 (6921)، صحیح مسلم/الإیمان 53 (120)، (تحفة الأشراف: 9258)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/379، 429، 431، 462)، سنن الدارمی/المقدمة 1 (1) (صحیح)