سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4238
Sunan Ibn Majah 4238
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ , فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " مَنْ هَذِهِ؟" , قُلْتُ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا" , قَالَتْ: وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينَ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، اور پوچھا : ” یہ کون ہے “ ؟ میں نے کہا : یہ فلاں عورت ہے ، یہ سوتی نہیں ہے ( نماز پڑھتی رہتی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرو ! تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4238]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 32 (785)، (تحفة الأشراف: 16821)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 33 (43)، التہجد 18 (1151)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1643)، الإیمان 29 (5038)،، موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (90) مسند احمد (6/51) (صحیح)