سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4237
Sunan Ibn Majah 4237
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
28: بَابُ : الْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ
باب: نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ: " وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ , وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ , الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ( اللہ ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( دنیا سے ) لے گیا ! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز ( تہجد ) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے ۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4237]
💡 وضاحت:
۱؎: جو کام ہمیشہ کیا جائے گرچہ وہ روزانہ تھوڑا ہی ہو وہی بہت ہو جاتا ہے، اور جو بہت کیا جائے لیکن ہمیشہ نہ کیا جائے وہ تھوڑا ہی رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (1225) (صحیح)