سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4211
Sunan Ibn Majah 4211
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
23: بَابُ : الْبَغْيِ
باب: بغاوت و سرکشی کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , وَابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا , مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ , مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4211]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی امام برحق کی اطاعت نہ کرنا اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے مستعد ہونا، اور بعضوں نے کہا بغی سے یہاں ظلم مراد ہے یعنی لوگوں کو ستانا اور ان کی حق تلفی کرنا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 51 (4902)، سنن الترمذی/صفة القیامة 57 (2511)، (تحفة الأشراف: 11693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 38) (صحیح)