سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4194
Sunan Ibn Majah 4194
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
19: بَابُ : الْحُزْنِ وَالْبُكَاءِ
باب: غمگین ہونے اور رونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَال لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ عَلَيَّ" , فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِسُورَةِ النِّسَاءِ , حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 , فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو “ ، تو میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» ” تو اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے “ ( سورة النساء : 41 ) پر پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4194]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنی امت کے برے اعمال کا خیال کر کے اور اس پر کہ مجھے ان پر گواہی دینی پڑے گی، اے مسلمانو! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم کرو اور کوشش کرو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نیک اعمال کے گواہ ہوں، اور برے اعمال کر کے آپ کو رنج مت دو، اور ضد نفسانیت اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو، جو طریقہ حق ہے یعنی اتباع قرآن اور حدیث اس کو اختیار کرو تمہارے نبی تم سے راضی رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 5 (3024)، (تحفة الأشراف: 9428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن 9 (4582)، فضائل القرآن 32 (5049)، صحیح مسلم/المسافرین 40 (800)، سنن ابی داود/العلم 13 (3668)، مسند احمد (1/308، 432) (صحیح)