سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4190
Sunan Ibn Majah 4190
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
19: بَابُ : الْحُزْنِ وَالْبُكَاءِ
باب: غمگین ہونے اور رونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ , وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ , إِنَّ السَّمَاءَ أَطَّتْ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ , مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ , إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ , وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا , وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ , وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ , وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ، اور سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے ، بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے ، اس میں چار انگل کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور سجدے میں رکھے ہوئے ہے ، اللہ کی قسم ! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ، اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے ، اور تم میدانوں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے “ ، اللہ کی قسم ! میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4190]
قال الشيخ الألباني:
حسن دون قوله والله لوددت فإنه مدرج
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11986)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد 9 (2312)، مسند احمد (3/173) (حسن) ( واللہ لوددت کے بغیر حدیث حسن ہے، یہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جیسا کہ مسند احمد میں بصراحت آیا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1722)