سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4171
Sunan Ibn Majah 4171
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
15: بَابُ : الْحِكْمَةِ
باب: حکمت و دانائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي وَأَوْجِزْ , قَالَ: " إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ , فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ , وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ , وَأَجْمِعِ الْيَأْسَ عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ".
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آ کر کہا : اللہ کے رسول ! مجھے کچھ بتائیے ، اور مختصر نصیحت کیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو گویا کہ دنیا سے جا رہے ہو ، اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالو جس کے لیے آئندہ عذر کرنا پڑے ، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے پوری طرح مایوس ہو جاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4171]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عثمان بن جبير مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده ¤ و للحديث شواھد ضعيفة عند الحاكم (326/4۔327) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3476، ومصباح الزجاجة: 1479)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/412) (حسن) (سند میں عثمان بن جبیر مقبول عند المتابعہ ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 400)