سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4169
Sunan Ibn Majah 4169
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
15: بَابُ : الْحِكْمَةِ
باب: حکمت و دانائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ , حَيْثُمَا وَجَدَهَا , فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے ، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4169]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بہ نسبت کافر کے مسلمان کو حکمت حاصل کرنے کا زیادہ شوق ہونا چاہئے، افسوس ہے کہ ایک مدت دراز سے مسلمانوں کو حکمت کا شوق جاتا رہا نہ دنیا کی حکمت سیکھتے ہیں نہ دین کی، اور کفار حکمت یعنی دنیاوی علوم اور سائنس وغیرہ سیکھ کر ان پر غالب ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (2687) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 19 (3687)، (تحفة الأشراف: 12940) (ضعیف جدا) (سند میں ابراہیم بن الفضل ضعیف اور منکر الحدیث راوی ہے)