سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4114
Sunan Ibn Majah 4114
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
3: بَابُ : مَثَلِ الدُّنْيَا
باب: دنیا کی مثال۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي , فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ , كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ , أَوْ كَأَنَّكَ عَابِرُ سَبِيلٍ , وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ ( کندھا ) تھاما اور فرمایا : ” عبداللہ ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر ، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4114]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله وعد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2333) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزھد 15 (2333)، (تحفة الأشراف: 7386)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 3 (6418)، من طریق محمد بن عبد الرحمن الطفاوی عن الأعمش عن مجاہد بن جبر ابن عمر، مسند احمد (2/24، 132) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں، اسے لئے وعد نفسك من أهل القبور کا جملہ ضعیف ہے، لیکن بقیہ حدیث صحیح ہے، کمافی التخریج)