سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4111
Sunan Ibn Majah 4111
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
3: بَابُ : مَثَلِ الدُّنْيَا
باب: دنیا کی مثال۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْهَمْدَانِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ , قَالَ: إِنِّي لَفِي الرَّكْبِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ أَتَى عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ , قَالَ: فَقَالَ: " أَتُرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا؟" , قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا أَوْ كَمَا قَالَ , قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا".
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک قافلے میں تھا کہ آپ بکری کے ایک پڑے ہوئے مردہ بچے کے پاس آئے ، اور فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے “ ؟ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس کی بے وقعتی ہی کی وجہ سے اس کو یہاں ڈالا گیا ہے ، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4111]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2321) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزہد 13 (2321)، (تحفة الأشراف: 11258)، وقد أخرجہ: (حم 4/229، 230) (صحیح)