سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4103
Sunan Ibn Majah 4103
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
1: بَابُ : الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ , رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ , قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ , فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ , فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا يُبْكِيكَ؟ أَيْ خَالِ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ , أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا , قَالَ: عَلَى كُلٍّ لَا , وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ , قَالَ: " إِنَّكَ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ , وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ.
سمرہ بن سہم کہتے ہیں کہ میں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، وہ برچھی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے ، معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے ، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ماموں جان ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا درد کی شدت سے رو رہے ہیں یا دنیا کی کسی اور وجہ سے ؟ دنیا کا تو بہترین حصہ گزر چکا ہے ، ابوہاشم رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی ، کاش ! میں اس پر عمل کئے ہوتا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ” شاید تم ایسا زمانہ پاؤ ، جب لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا جائے ، تو تمہارے لیے اس میں سے ایک خادم اور راہ جہاد کے لیے ایک سواری کافی ہے ، لیکن میں نے مال پایا ، اور جمع کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4103]
💡 وضاحت:
۱؎: تو اس پر روتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل نہ کر سکا، دوسری روایت میں ہے کہ دنیا میں سے تم کو ایک خادم، ایک سواری اور ایک گھر کافی ہے، اس سے زیادہ جمع کر کے رکھنا ضروری نہیں، دوسرے محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دے دے، خود کھائے، دوسروں کو کھلائے، رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے، یتیموں بیواؤں کی پرورش کرے، مفید عام کاموں میں صرف کرے جیسے مدارس و مساجد بنانے میں، یتیم خانہ اور مسافر خانہ کی تعمیر میں، کنویں اور سڑک کی تعمیر میں، دینی اور اسلامی کتابیں چھاپنے، اور تقسیم کرنے میں، مگر ہزاروں لاکھوں میں کوئی ایسا بندہ ہوتا ہے جو دنیا کو بالکل جمع نہیں کرتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2327) نسائي (5374) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزہد 19 (2327)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ (5374)، (تحفة الأشراف: 12178)، وقد أخرجہ: (حم 5/290) (حسن) (سند میں سمرہ بن سہم مجہول ہیں، لیکن شواہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 5185 وصحیح الترغیب)