سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4100
Sunan Ibn Majah 4100
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
1: بَابُ : الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الْقُرَشِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ , وَلَا فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ , وَلَكِنْ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدِ اللَّهِ , وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أُصِبْتَ بِهَا , أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ" , قَال هِشَامٌ: كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , يَقُولُ: مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَحَادِيثِ كَمِثْلِ الْإِبْرِيزِ فِي الذَّهَبِ.
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے ، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے ، بلکہ دنیا میں زہد ( دنیا سے بے رغبتی ) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے ، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے ، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے “ ۔ ہشام کہتے ہیں : کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4100]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (2340) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزہد 29 (2340)، (تحفة الأشراف: 11935) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن واقد متروک ہے)