سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4083
Sunan Ibn Majah 4083
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
34: بَابُ : خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ
باب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ , إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ , فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ , تُؤْتَى أُكُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا , وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ , فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي , فَيَقُولُ: خُذْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں مہدی ہوں گے ، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے ، ورنہ نو برس رہیں گے ، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی ، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی ، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی ، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا ، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا : اے مہدی ! مجھے کچھ دیں ، وہ جواب دیں گے : لے لو ( اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے ) “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4083]
💡 وضاحت:
۱؎: مہدی کے معنی لغت میں ہدایت پایا ہوا کے ہیں، اور اسی سے ہیں مہدی آخرالزمان، زرکشی کہتے ہیں کہ یہ وہ مہدی ہیں، جو عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے، اور قسطنطنیہ کو نصاریٰ سے چھین لیں گے اور عرب و عجم کے مالک ہو جائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور مسجد حرام میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2232) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الفتن 53 (2232)، (تحفة الأشراف: 3976)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المھدي 1 (4285)، مسند احمد (3/21، 26) (حسن) (سند میں زید ا لعمی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)