سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4082
Sunan Ibn Majah 4082
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
34: بَابُ : خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ
باب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ , فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ , قَالَ: فَقُلْتُ: مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ , فَقَالَ: " إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ , اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا , وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلَاءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا , حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ , فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلَا يُعْطَوْنَهُ , فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ , فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا , فَلَا يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَئُوهَا جَوْرًا , فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا ، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں ، اور آپ کا رنگ بدل گیا ، میں نے عرض کیا : ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے ( یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے ، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت ، سختی ، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے ، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے ، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے ، وہ خیر ( خزانہ ) طلب کریں گے ، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے ، اور ( اللہ کی طرف سے ) ان کی مدد ہو گی ، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا ، ( یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے ) ، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے ، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا ، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ( لشکر میں ) شریک ہو ، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4082]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ يزيد بن أبي زياد:ضعيف ¤ ولم تثبت متابعة الحكم له،في السند إليه عبد اللّٰه بن داهر: رافضي خبيث متهم (انظر ميزان الإعتدال 416/2) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9462، ومصباح الزجاجة: 1441) (ضعیف) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)