سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4068
Sunan Ibn Majah 4068
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
32: بَابُ : طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا
باب: پچھم سے سورج نکلنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا , فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا , فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا ، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے ، لیکن یہ ایسا وقت ہو گا کہ اس وقت جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے ، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4068]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اللہ کی قدرت کی کھلی کھلی نشانی ظاہر ہو جائے گی اور ایسی حالت میں تو سب مومن ہو جاتے ہیں، جیسے قیامت میں جنت، جہنم اور حشر کو دیکھ کر سب ایمان لائیں گے، ایمان جو قبول ہے وہ یہی ہے کہ غیب پر ایمان لائے، بہر حال پچھم سے جب تک سورج نہ نکلے اس وقت تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے، پھر بند ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر القرآن 7 (4635)، الرقاق 40 (6506)، الفتن 25 (7121)، صحیح مسلم/الإیمان 72 (157)، سنن ابی داود/الملاحم 12 (4312)، (تحفة الأشراف: 14897)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر 7 (3072)، مسند احمد (2/231، 313، 350، 372، 530) (صحیح)