سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4052
Sunan Ibn Majah 4052
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
26: بَابُ : ذَهَابِ الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ
باب: قرآن اور علم (حدیث) کا دنیا سے اٹھ جانا قیامت کی نشانی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بْنُ أبِى شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ , قَالَ: " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ , وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ , وَيُلْقَى الشُّحُّ , وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: " الْقَتْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہو جائے گا ، ۱؎ علم گھٹ جائے گا ، ( لوگوں کے دلوں میں ) بخیلی ڈال دی جائے گی ، فتنے ظاہر ہوں گے ، اور «هرج» زیادہ ہو گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! «هرج» کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4052]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی عیش و عشرت یا بے برکتی کی وجہ سے زمانہ جلدی گزر جائے گا، یا عمریں چھوٹی ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفتن 5 (7061)، صحیح مسلم/العلم 72 (157)، (تحفة الأشراف: 13272)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/233) (صحیح)