سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4046
Sunan Ibn Majah 4046
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
25: بَابُ : أَشْرَاطِ السَّاعَةِ
باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ , حَتَّى يَحْسُرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ , فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ , فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں ، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں ، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے ، اور ایک باقی رہ جائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4046]
💡 وضاحت:
۱ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے اور ہر شخص کہے گا کہ شاید میں بچ رہوں اور سونے کے اس پہاڑ کو لوں اور لڑے گا، صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے کہ جب یہ خزانہ نمودار ہو تو جو وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے، واضح رہے کہ اس خزانے کے حصول کے لیے بہت قتل و غارت ہو گی، ہر شخص یہی چاہے گا کہ یہ خزانہ اسی کو ملے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح دون قوله من كل عشرة تسعة فإنه شاذ والمحفوظ من كل مائة تسعة وتسعون م
قال الشيخ زبیر علی زئی:
شاذ ¤ جاء في صحيح مسلم (2894 / 29)”فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون“ وھو الصواب ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 521
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15098، ومصباح الزجاجة: 1426)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن 24 (7119)، صحیح مسلم/الفتن 8 (2894)، سنن ابی داود/الملاحم 13 (4313)، سنن الترمذی/صفة الجنة 26 (2569)، مسند احمد (2/261، 332، 360) (حسن صحیح) ( من کل عشرة تسعة کا لفظ ضعیف اور شاذ ہے، من کل مئة تسعة وتسعون کا لفظ محفوظ ہے)۔