سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4044
Sunan Ibn Majah 4044
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
25: بَابُ : أَشْرَاطِ السَّاعَةِ
باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ أَبِي حَيَّانَ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ , فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ , وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا , وَإِذَا كَانَتِ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ , فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا , وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ , فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا , فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ" , فَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ سورة لقمان آية 34.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں ، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے ، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب ننگے پاؤں ، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں ، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں ، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے ، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام» ” اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہو گی ، وہی بارش نازل کرتا ہے ، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے “ ( سورة لقما ن : 34 ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4044]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا وقت معلوم ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کسی آدمی کو معلوم نہیں کل وہ کیا کرے گا اور کہاں مرے گا، بس یہ باتیں غیب مطلق ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، اور جو کوئی دعوے کرے کہ کسی نبی یا ولی کو علم غیب ہے وہ تو کافر ہے، قرآن کی بہت ساری آیتوں میں صاف صاف یہ مضمون ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہئے: میں غیب نہیں جانتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 38 (50)، صحیح مسلم/الإیمان 1 (9)، سنن النسائی/الإیمان 6 (4994)، (تحفة الأشراف: 14929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/426) (صحیح) (یہ حدیث نمبر (65) کا ایک ٹکڑا ہے)