📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الفتن) 🏷️ باب: باب: مال دولت کا فتنہ۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3997 Sunan Ibn Majah 3997
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
18: بَابُ : فِتْنَةِ الْمَالِ
باب: مال دولت کا فتنہ۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْمِصْرِيُّ , أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ , وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ , وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ , وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ , فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ , فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ , فَتَعَرَّضُوا لَهُ , فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ , ثُمَّ قَالَ: " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ" , قَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ , فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ , وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ , كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ , فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا , فَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ".
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کا جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی ، اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا ، ابوعبیدہ ( ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ) بحرین سے مال لے کر آئے ، اور جب انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں آئے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر جب آپ نماز پڑھ کر لوٹے ، تو راستے میں یہ لوگ آپ کے سامنے آ گئے ، آپ انہیں دیکھ کر مسکرائے ، پھر فرمایا : ” میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگوں نے یہ سنا کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ مال لائے ہیں “ ، انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم لوگ خوش ہو جاؤ ، اور امید رکھو اس چیز کی جو تم کو خوش کر دے گی ، اللہ کی قسم ! میں تم پر فقر اور مفلسی سے نہیں ڈرتا ، لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا تم پر اسی طرح کشادہ نہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے کے لوگوں پر کر دی گئی تھی ، تو تم بھی اسی طرح سبقت کرنے لگو جیسے ان لوگوں نے کی تھی ، پھر تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ جس طرح وہ ہلاک ہو گئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3997]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجزیة 1 (3158)، صحیح مسلم/الزہد 1 (2961)، سنن الترمذی/صفة القیامة 28 (2462)، (تحفة الأشراف: 10784)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/137، 327) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #3997
3995 3996 3997 3998 3999

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3995 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْم...
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے لوگ...
#3996 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا...
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ