📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الفتن) 🏷️ باب: باب: مال دولت کا فتنہ۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3995 Sunan Ibn Majah 3995
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
18: بَابُ : فِتْنَةِ الْمَالِ
باب: مال دولت کا فتنہ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ , فَقَالَ: " لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ , أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا , أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ , حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتِ امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا , اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ , ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ , فَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَكُ لَهُ , وَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا : ” اللہ کی قسم ، لوگو ! مجھے تمہارے متعلق کسی بات کا خوف نہیں ، ہاں صرف اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیاوی مال و دولت سے نوازے گا “ ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا خیر ( مال و دولت ) سے شر پیدا ہوتا ہے ؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ، پھر قدرے سکوت کے بعد فرمایا : ” تم نے کیسے کہا تھا “ ؟ میں نے عرض کیا : کیا خیر ( یعنی مال و دولت کی زیادتی ) سے شر پیدا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خیر سے تو خیر ہی پیدا ہوتا ہے ، اور کیا وہ مال خیر ہے ؟ ہر وہ سبزہ جسے موسم بہار اگاتا ہے ، جانور کا پیٹ پھلا کر بدہضمی سے مار ڈالتا ہے ، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے ، مگر اس جانور کو جو گھاس کھائے یہاں تک کہ جب پیٹ پھول کر اس کے دونوں پہلو تن جائیں تو دھوپ میں چل پھر کر ، پاخانہ پیشاب کرے ، اور جگالی کر کے ہضم کر لے ، اور واپس آ کر پھر کھائے ، تو اسی طرح جو شخص مال کو جائز طریقے سے حاصل کرے گا ، تو اس کے مال میں برکت ہو گی ، اور جو اسے ناجائز طور پر حاصل کرے گا ، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3995]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الزکاة 41 (1052)، (تحفة الأشراف: 4273)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 28 (921)، الزکاة 47 (1465)، الجہاد 37 (2842)، الرقاق 7 (6427)، سنن النسائی/الزکاة 81 (2582)، مسند احمد (3/7، 91) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #3995
3993 3994 3995 3996 3997

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3996 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا...
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم...
#3997 حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْمِصْرِيُّ , أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُون...
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ