سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3981
Sunan Ibn Majah 3981
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
13: بَابُ : الْعُزْلَةِ
باب: (فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدِّمِيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَكُونُ فِتَنٌ عَلَى أَبْوَابِهَا دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ , فَأَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ , خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ".
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے ، لہٰذا اس وقت تمہارے لیے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے ، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3981]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 3372) (صحیح)