سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3978
Sunan Ibn Majah 3978
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
13: بَابُ : الْعُزْلَةِ
باب: (فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا الزَّبِيدِيُّ , حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " رَجُلٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ امْرُؤٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ , يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو “ ، اس نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو ، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3978]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 2 (2786)، الرقاق 34 (6494)، صحیح مسلم/الإمارة 34 (1888)، سنن ابی داود/الجہاد 5 (2485)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 24 (1660)، سنن النسائی/الجہاد 7 (3107)، (تحفة الأشراف: 4151)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/16، 37، 56، 88) (صحیح)