سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3932
Sunan Ibn Majah 3932
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
2: بَابُ : حُرْمَةِ دَمِ الْمُؤْمِنِ وَمَالِهِ
باب: مومن کی جان و مال کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَيَقُولُ: " مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ , مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ , نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ” تو کتنا عمدہ ہے ، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے ، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے ، لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، مومن کی حرمت ( یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے ، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3932]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نصر بن محمد: ضعيف ¤ و للحديث شواھد ضعيفة،و روي الترمذي (2032) عن نافع و ذكر الحديث و فيه: ”قال: و نظر ابن عمر يومًا إلي البيت أو الكعبة فقال: ما أعظمك و أعظم حرمتك و المؤمن أعظم حرمة عند اللّٰه منك۔‘‘ و قال الترمذي: ”ھذا حديث حسن غريب“ إلخ وسنده حسن وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7284، ومصباح الزجاجة: 1377) (حسن) (سند میں نصر بن محمد ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 89)