سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3917
Sunan Ibn Majah 3917
کتاب #36: کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
9: بَابُ : أَصْدَقُ النَّاسِ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا
باب: جو شخص جتنا ہی زیادہ سچا ہو گا اسی قدر اس کا خواب بھی سچا ہو گا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرُبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ , وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا , وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قیامت قریب آ جائے گی تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے ، اور جو شخص جتنا ہی بات میں سچا ہو گا اتنا ہی اس کا خواب سچا ہو گا ، کیونکہ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3917]
💡 وضاحت:
۱؎: «اذا قرب الزمان» کا ترجمہ قیامت کے قریب ہونے کے ہے، اور بعضوں نے کہا کہ «قرب الزمان» سے موت کا زمانہ مراد ہے یعنی جب آدمی کی موت نزدیک آتی ہے تو اس کے خواب سچے ہونے لگتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم آخرت کے وصال کا وقت نزدیک آ جاتا ہے، اور وہاں کے حالات زیادہ منکشف ہونے لگتے ہیں، بعضوں نے کہا «قرب الزمان» سے بڑھاپا مراد ہے کیونکہ اس وقت میں شہوت اور غضب کا زور گھٹ جاتا ہے، اور مزاج معتدل ہوتا ہے پس اس وقت کے خواب زیادہ سچے ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14478) (صحیح)