سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3912
Sunan Ibn Majah 3912
کتاب #36: کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
5: بَابُ : مَنْ لَعِبَ بِهِ الشَّيْطَانُ فِي مَنَامِهِ فَلاَ يُحَدِّثْ بِهِ النَّاسَ
باب: جس نے خواب دیکھا کہ شیطان اس سے کھیل رہا ہے وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ وَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ , فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کل رات خواب دیکھا کہ میری گردن اڑا دی گئی ، اور میرا سر الگ ہو گیا ، میں اس کے پیچھے چلا اور اس کو اٹھا کر پھر اپنے مقام پر رکھ لیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب شیطان خواب میں تم میں سے کسی کے ساتھ کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3912]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرؤیا 1 (2268)، (تحفة الأشراف: 2308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/315) (صحیح)