سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3810
Sunan Ibn Majah 3810
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
56: بَابُ : فَضْلِ التَّسْبِيحِ
باب: تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , قَالَتْ: أَتَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ , فَإِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ وَبَدُنْتُ , فَقَالَ: " كَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , وَسَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ , خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ فَرَسٍ مُلْجَمٍ مُسْرَجٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ , وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ رَقَبَةٍ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی عمل بتلائیے ، میں بوڑھی اور ضعیف ہو گئی ہوں ، میرا بدن بھاری ہو گیا ہے ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سو بار «اللہ اکبر» ، سو بار «الحمدللہ» ، سو بار «سبحان اللہ» کہو ، یہ ان سو گھوڑوں سے بہتر ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں مع زین و لگام کے کس دیئے جائیں ، اور سو جانور قربان کرنے ، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3810]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اب محنت والی عبادت مجھ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ زكريا بن منظور: ضعيف ومحمد بن عقبة: مستور ¤ وللحديث شواهد ضعيفة عند أحمد (344/6)وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18013، 18014، ومصباح الزجاجة: 1334)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/344) (حسن) (سند میں زکریا بن منظور ضعیف اور محمد بن عقبہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ حسن ہے)