سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3713
Sunan Ibn Majah 3713
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
20: بَابُ : تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ
باب: چھینک کا جواب۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ سَمَّتَ وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَطَسَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ , فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَلَمْ تُشَمِّتِ الْآخَرَ , فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ , وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے جواب میں «يرحمك الله» ” اللہ تم پر رحم کرے “ کہا ، اور دوسرے کو جواب نہیں دیا ، تو عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا ، آپ نے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہیں دیا ، اس کا سبب کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک نے ( چھینکنے کے بعد ) «الحمد لله» کہا ، اور دوسرے نے نہیں کہا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3713]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 123 (6221)، 127 (6225)، صحیح مسلم/الزہد 9 (2991)، سنن ابی داود/الأدب 102 (5039)، سنن الترمذی/الأدب 4 (2743)، (تحفة الأشراف: 872)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100، 117، 176)، سنن الدارمی/الاستئذان 31 (2702) (صحیح)