سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3232
Sunan Ibn Majah 3232
کتاب #29: کتاب: شکار کے احکام و مسائل
13: بَابُ : كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ
باب: کچلیوں والے درندوں کو کھانا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى دَخَلْتُ الشَّامَ.
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ زہری کہتے ہیں کہ شام جانے سے پہلے میں نے یہ حدیث نہیں سنی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3232]
💡 وضاحت:
۱؎: «ناب» اس دانت کو کہتے ہیں جو رباعیہ کے پیچھے ہوتا ہے، اور رباعیہ ثنایا کے ساتھ ہوتے ہیں، «ناب» کو ہم کچلی (نوک دار اور کتا دانت) کہتے ہیں، کچلیوں والے جانورسے مراد وہ درندہ ہے جس کی کچلیاں ہوں جو شکار کرنے میں قوت کاباعث بنیں مثلاً شیر، بھیڑیا، چیتا اور تندوا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصید 29 (5530)، الطب 57 (5780)، صحیح مسلم/الصید 3 (1932)، سنن ابی داود/الاطعمة 33 (3802)، سنن الترمذی/الصید 11 (1477)، سنن النسائی/الصید 28 (4330)، (تحفة الأشراف: 11874)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید 4 (13)، مسند احمد (4/193، 194)، سنن الدارمی/الأضاحي 18 (2023) (صحیح)