سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3090
Sunan Ibn Majah 3090
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
92: بَابُ : مَا يُنْهَى عَنْهُ الْمُحْرِمُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: محرم کو کون سا شکار منع ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِيَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ".
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے ، میں ابواء یا ودان میں تھا ، میں نے آپ کو ہدیہ میں ایک نیل گائے دی ، آپ نے اسے لوٹا دیا ، پھر جب آپ نے میرے چہرہ پر ناگواری دیکھی تو فرمایا : ” ہم یہ تمہیں نہیں لوٹاتے ، لیکن ہم احرام باندھے ہوئے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3090]
💡 وضاحت:
۱؎: محرم کے لیے خود بھی خشکی کا شکار کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح وہ جانور بھی جائز نہیں جو اس کے لیے شکار کیا جائے، اور اسی طرح محرم کو شکار زندہ جانور لا کر دیا جائے تو بھی اس کا کھانا جائز نہیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیل گائے کو واپس کر دیا، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ جس شکار کو حلال ذبح کر ے اس کا بھی کھانا محرم کے لیے جائز نہیں، ثوری اور مالک یہی مذہب ہے لیکن امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا قول ہے کہ اس کا کھانا جائز ہے اگر محرم کے لیے ذبح نہ ہوا ہو، اور نہ محرم نے اس کے شکار میں مدد کی ہو جیسے آگے آئے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/جزاء الصید 6 (1825)، الھبة 6 (2573)، 17 (2596)، صحیح مسلم/الحج 8 (1193)، سنن الترمذی/الحج 26 (849)، سنن النسائی/الحج 79 (2821)، (تحفة الأشراف: 4940)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 25 (83)، مسند احمد (4/37، 38، 71، 73)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1872) (صحیح)