سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3062
Sunan Ibn Majah 3062
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
78: بَابُ : الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ
باب: زمزم کا پانی پینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” زمزم کا پانی اس مقصد اور فائدے کے لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3062]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر آدمی زمزم کا پانی شفا کے لیے پئے تو شفا حاصل ہو گی، اگر پیٹ بھرنے کے لئے تو کھانے کی احتیاج نہ ہو گی، اگر پیاس بجھانے کے لیے پئے تو پیاس دور ہو جائے گی، بہرحال جس نیت سے پئے گا وہی فائدہ اللہ چاہے تو حاصل ہو گا، خواہ دنیا کا فائدہ ہو یا آخرت کا،صحیح کہا اور بہت سے ائمہ دین نے زمزم کو مختلف اغراض سے پیا ہے اور جو غرض تھی، وہ حاصل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن مؤمل ضعيف ¤ و قيل: تابعه إبراھيم بن طھمان عند البيھقي (5/ 202) و لكن سنده ضعيف،فيه أحمد بن إسحاق بن شيبان البغدادي ولم أجد له ترجمة ¤ و للحديث شواھد ضعيفة عند الطبراني (الأوسط: 3827) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2784، ومصباح الزجاجة: 1064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357، 372) (صحیح) (اس سند میں عبداللہ بن مؤمل ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1123)