📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل (كتاب المناسك) 🏷️ باب: باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3057 Sunan Ibn Majah 3057
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
76: بَابُ : الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْمُخَضْرَمَةِ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا، وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا، وَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدٌ حَرَامٌ، وَشَهْرٌ حَرَامٌ، وَيَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: " أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَأُكَاثِرُ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي، أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ أُنَاسًا، وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي أُنَاسٌ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے : ” کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے ، اور کون سا مہینہ ہے ، اور کون سا شہر ہے “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : یہ حرمت والا شہر ، حرمت والا مہینہ ، اور حرمت والا دن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں ، سنو ! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا ، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا ، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا ، سنو ! کچھ لوگوں کو میں ( عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے ) نجات دلاؤں گا ، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے ( فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے ) ، میں کہوں گا : یا رب ! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا : آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3057]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے، مسلمانوں کو مارا، اور اصحاب سے مراد یہ ہے کہ میری امت کے لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9557، ومصباح الزجاجة: 1061) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #3057
3055 3056 3057 3058 3059

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3055 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو ...
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سن...
#3056 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْ...
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے ا...
#3058 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَا...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ